جب ایپل نے اپنے ڈیوائسز پر ایپلپلی کیشن ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی (ATT) متعارف کروائی، تو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گیمنگ کی دنیا میں ایک بڑا زلزلہ آیا۔ خاص طور پر موبائل ایڈ ٹارگٹنگ کے لیے آئی ڈی ایف اے (IDFA) کا اختتام ایک ایسا موڑ تھا جس نے اشتہارات کی تاثیر اور ڈیٹا جمع کرنے کے تمام پرانے طریقوں کو بدل کر رکھ دیا۔ پبلشرز اور ڈویلپرز جو پہلے صارف کی ہر سرگرمی پر نظر رکھتے تھے، اچانک اندھیرے میں آ گئے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف اشتہاری کمپنیوں کو نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا بلکہ موبائل انڈسٹری کے معاشی ڈھانچے کو بھی بنیادی طور پر متاثر کیا۔
ماضی میں آئی ڈی ایف اے کے ذریعے اشتہار دینے والے ہر صارف کی پسند، ناپسند اور ایپس کے استعمال کی عادت کو باریکی سے ٹریک کرتے تھے۔ لیکن ایپل کی پرائیویسی پالیسی کے بعد اب صارفین سے صریحاً اجازت مانگی جاتی ہے۔ اکثریت نے ٹریکنگ سے انکار کیا، جس کی وجہ سے ڈائریکٹ موبائل ایڈ ٹارگٹنگ کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی۔ اس سے اشتہارات کے نتائج کی درست پیمائش کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔
پرائیویسی کے اس نئے دور نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو ذاتی ڈیٹا کی ٹریکنگ سے ہٹا کر پرائیویسی کے احترام کی طرف موڑ دیا ہے۔
موبائل گیمنگ انڈسٹری، جو سب سے زیادہ ہدف پر مبنی اشتہارات پر انحصار کرتی تھی، کو سب سے بڑا دھچکا لگا۔ اس کے جواب میں ڈویلپرز اور ایڈ نیٹ ورکس نے نئے حل تلاش کیے:
ایپل کے اپنے پرائیویسی فرینڈلی فریم ورک کو اپنایا گیا جو انفرادی صارف کی شناخت ظاہر کیے بغیر مجموعی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے اندر ہی صارفین کا ڈیٹا اور ترجیحات اکٹھی کرنا شروع کر دیں تاکہ موبائل ایڈ ٹارگٹنگ کو بہتر بنایا جا سکے۔
اب ایڈورٹائزرز مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ذریعے ممکنہ رجحانات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ذاتی معلومات کے بغیر اشتہارات کو موثر بنانا ہی اب اس انڈسٹری کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اب کمپنیوں کا فوکس صارف کے اعتماد کو حاصل کرنے اور بہتر تجربہ فراہم کرنے پر ہے۔
صارفین کی پرائیویسی کے اس سخت ماحول میں کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایپس کا معیار بہتر ہوا ہے یا ڈویلپرز کے لیے کمانا مشکل ہو گیا ہے؟ ذیل میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔









